جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی بات آگے نہیں جاسکتی، عمران خان

1 month ago 28

غلام امپورٹڈ حکومت نے 30 روپے فی لیٹر پیٹرول مہنگا کردیا، بھارت نے روس سے تیل خرید کر 25 روپے فی لیٹر کمی کردی، آزاد اور غلامانہ خارجہ پالیسی کا یہی فرق ہے، عدالتوں نے ہمیشہ شریف خاندان کو بچایا ہے، ہر قسم کی بات چیت کیلئے تیار ہوں، جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی بات آگے نہیں جاسکتی، ملک بچانے کا ٹھیکہ صرف ہم نے نہیں لیا، یہ سب اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، اس معاملے کو سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور ہیومن رائٹس کمیشن میں اٹھائیں گے، ہمارا 26 سالہ ریکارڈ ہے کہ کبھی تشدد نہیں کیا، کبھی انتشار کی سیاست نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں سیاست کا آغاز کیا تو بہت دباؤ تھا لوگوں نے کہا کہ پارٹی میں عسکری ونگ نہیں بنائیں گے تو کراچی میں پارٹی نہیں بناسکیں گے، اس وقت کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز تھے، واحد پارٹی ہیں جس نے فیصلہ کیا کہ عسکری ونگ نہیں بنائیں گے، ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو جمہوری پارٹی سمجھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ بیرونی سازش کابینہ، قومی سلامتی کونسل سمیت تمام فورمز پر ثابت ہوچکی ہے، صدر نے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھجوادیا، ثابت ہوگیا کہ باہر سے مداخلت کی گئی اور تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرنے کیلئے سازش کی گئی، ہم صرف آزاد خارجہ پالیسی چاہتے تھے تاکہ فائدہ ہمارے اپنے عوام کو ہو، یہی وجہ ہے کہ ہمارے خلاف بیرونی سازش ہوئی۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ صرف 6 ہفتے لگے قوم کو سمجھ آگئی، غلام امپورٹڈ حکومت نے 30 روپے فی لیٹر پیٹرول مہنگا کردیا، بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی ہے، وہ امریکا کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے، پھر بھی انہوں نے روس سے تیل خرید کر قیمتیں 25 روپے تک کم کردیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم روس سے بات چیت کرچکے تھے، 30 فیصد کم قیمت پر تیل لینے کا معاہدہ کررہے تھے، انہوں نے امریکا اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھادی گئیں، امریکی آقاؤں کے خوف سے انہوں نے سستا تیل نہیں لیا، بھارت نے سستا تیل لے کر اپنی قوم کو فائدہ پہنچایا، آزاد اور غلامانہ خارجہ پالیسی کا یہی فرق ہوتا ہے، ایک مجرم لندن میں بیٹھ کر ملک کے فیصلے کررہا ہے۔

پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا ہے کہ میں اپنی جان قربان کردوں گا ان کو قبول نہیں کروں گا، 6 دن بعد اسلام آباد آنے کا دوبارہ اعلان کروں گا، اس بار تیاری کرکے اسلام آباد آئیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکاء پر تشدد کے معاملے پر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائرکریں گے، جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا اس کو کیسے کاؤنٹر کرنا ہے تیاری شروع کردی، ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جیسے ہم کوئی دہشت گرد ہیں، کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں جو ان چوروں کو قبول کرلیں گے؟، پوچھیں گے کہ ہمیں پرامن احتجاج کا حق ہے یا نہیں؟۔

ان کا کہنا ہے کہ اداروں کو کہہ رہا ہوں یہ ملک تباہی کی طرف جارہا ہے، ملک بچانے کا ٹھیکہ صرف ہم نے نہیں لیا، یہ سب اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں، ماڈل ٹاؤن واقعے پر شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو سزا ہوجاتی تو پولیس کا رویہ ایسا نہ ہوتا، انہیں جمہوریت صرف اپوزیشن میں یاد آتی ہے، انہوں نے لوگوں کو مارا اس کیلئے ہم تیار نہیں تھے، مجھے یقین تھا اگلے دن اسلام آباد میں خون خرابہ ہوسکتا تھا، امید ہے سپریم کورٹ ہمیں پر امن احتجاج کی اجازت دے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اب یہ نیب میں بھی اپنا آدمی رکھوانے لگے ہیں، اداروں سے پوچھتا ہوں ملک کس طرف جارہا ہے سوچ رہے ہیں؟، چیئرمین نیب اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنا چیلنج کریں گے، ہمارا پہلا مطالبہ الیکشن ہے، باقی چیزوں پر بات چیت ہوسکتی ہے، صاف شفاف الیکشن ہوں تو ہر قسم کی بات چیت کیلئے تیار ہوں، بات جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی بات آگے نہیں جاسکتی۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ عدالتوں نے ہمیشہ شریف خاندان کو بچایا، بے نظیر ٹھیک کہتی تھیں ان کیلئے انصاف کا معیار الگ، دوسروں کیلئے الگ ہے، حکومت کے پاس بڑے فیصلے کرنے کی طاقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین کو پتہ ہے ان کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں، اس لئے الیکشن سے ڈر رہے ہیں، حالات کے مطابق پلاننگ کررہا ہوں، جلد حکمت عملی سامنے آئے گی، تاریخ میں کبھی اتنی عوام نہیں نکلی ہوگی جتنی ہم نکالیں گے۔

Read Entire Article