سی ویو پر اسکرین لگانے کا معاملہ، علی زیدی اور پولیس میں تلخ کلامی

1 month ago 27

 سی ویو پر بڑی اسکرین لگانے سے روکنے پر پی ٹی آئی رہنما علی زیدی اور پولیس میں تلخ کلامی ہوئی ہے جب کہ حالات کشیدہ ہونے پر مزید نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مہنگائی کے خلاف آج اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والے احتجاج سے عمران خان کے خطاب کو براہ راست کراچی سی ویو پر دکھانے کیلیے بڑی اسکرین لگانے سے روکنے کے معاملے پر پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی اور پولیس اہلکار میں تلخ کلامی ہوئی ہے اور صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس کی مزید نفری کو سی ویو پر طلب کرلیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے اسکریننگ کے سامان والی گاڑی کو سی ویو سے باہر نکالنے کی کوشش کی اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں نے اپنی ہی گاڑیوں کے ٹائروں کی ہوا نکال دی تاکہ پولیس ان کی گاڑی کو باہر نہ نکال سکے اس موقع پر ایک پولیس اہلکار کی پی ٹی آئی سندھ کے صدر اور سابق وفاقی وزیر علی زیدی سے تلخ کلامی بھی ہوئی جب کہ ایم پی اے شہزاد قریشی کی بھی پولیس کےساتھ تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا کارکنوں نے پولیس اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

پولیس اہلکاروں کی تحریک انصاف کا ٹرک روکنے کی کوشش اور حالات کشیدہ ہونے پر پولیس کی مزید نفری طلب کرلی تاہم پی ٹی آئی کے پرجوش کارکن تمام رکاوٹیں توڑ کر ایک ٹرک کو اسکرین ایریا میں لے آئے ہیں جب کہ دوسرے ٹرک کو روکنے کے لیے پولیس نے موبائل کھڑی کردی ہے۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر علی زیدی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان سے تلخ کلامی کرنے والا اہلکار نشے میں ہے جس کو چیک کرایا جائے جب کہ ایم پی اے شہزاد قریشی نے کہا ہے کہ وہ اسکرین ہر صورت یہیں لگائیں گے جس کو روکنا ہے وہ روک لے۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی بی سی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یہاں بڑی اسکرین لگانے کی اجازت نہیں ہے اور بغیر اجازت نامے کے کسی کو بھی یہاں اسکرین نہیں لگانے دیں گے۔

اسی حوالے سے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سندھ حکومت اور پولیس کے اقدام کی مذمت کی ہے۔

Comments

Read Entire Article