فش اینڈ چپس کا خاتمہ؟

1 month ago 31

لندن : دنیا بھر میں کوکنگ آئل اور دیگر اشیائے خوردو نوش کی بڑھتی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور خصوصاً غریب طبقے کو پریشان کردیا ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء کے چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد پے در پے نقصانات اور فروخت کی کمی کی وجہ سے اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال مشرقی لندن کے علاقے میں روایتی پکوان فش اینڈ چپس فروخت کرنے والے سکھ دکاندار بلے سنگھ کو درپیش ہے جو اس کاروبار کو بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مچھلی، آلو، کوکنگ آئل اور یہاں تک کہ ڈش کے لیے استعمال ہونے والے آٹے (کارن فلور) کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد عالمی سطح پر آئل اور مچھلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، اس سے قبل کورونا کی وبا کی وجہ سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا تھا۔

fish and chips

انہوں نے بتایا کہ کورونا وباء کے دوران ایک بار برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہاتھ میں فش اینڈ چپس اٹھا کر اس کو بحال کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ مچھلی آلو اور کوکنگ آئل کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتیں برطانیہ کی معیشت کو مزید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

بلے سنگھ کی دکان میں فش اینڈ چپس کی قیمت اب9.50 پاؤنڈ ہے جو ایک سال پہلے 7.95 پاؤنڈ تھی، سنگھ نے بتایا کہ اگر وہ تمام اخراجات کو شامل کرتے ہیں تو اس کی قیمت 11 پاؤنڈ کے قریب ہوجائے گی۔

ایک مقامی کمپنی کا کہنا ہے کہ آئے دن قیمتوں کے ہوشربا اضافے کی وجہ سے اس سال فش اینڈ چپس کی 33فیصد دکانیں بند ہونے کا خطرہ ہے۔

دیوالیہ ہونے والی ڈیبٹ نامی کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف ایک سال میں برطانیہ کی پسندیدہ مچھلی "کاڈ اور ہیڈاک” کی قیمتوں میں75فیصد، سورج مکھی کا تیل60فیصد اور آٹے (کارن فلور) کی قیمت میں 40فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ملک میں مہنگائی ماہ اپریل میں 9فیصد ہے جو 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جو جی سیون ممالک میں سب سے زیادہ ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

Comments

Read Entire Article