ایم ایس سی پاس نوجوان چائے بیچنے پر مجبور، ویڈیو وائرل

1 month ago 11

چائے

کہتے ہیں کہ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں لیکن والدین کی محنت صبر اور قربانی کے بعد بھی اگر انہیں اس کا صلہ نہ ملے تو حکمرانوں سے ان کی شکایت بجا ہے۔

آج بھی ملک میں ایسے بے شمار نوجوان ہیں جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور کچھ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے اہل خانہ کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔

ان ہی میں سے ایک مثال ساہیوال کے ایک نوجوان کی ہے جس نے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ہمت نہ ہاری اپنے والدین کا سہارا بن گیا۔

ساہیوال کا رہائشی عذیر طارق میتھامیٹکس میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ہر طرف سے مایوس ہوکر چائے کا اسٹال لگانے پر مجبور ہوا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے شریف مغل سے گفتگو کرتے ہوئے عذیر نے بتایا کہ اس نے تین سال قبل ایم ایس سی کیا تھا جس کے بعد نوکری کے حصول کیلئے ہر جگہ گیا لیکن مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

نوجوان نے بتایا کہ تھک ہار کر اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کیلئے چائے کا ڈھابہ کھول لیا ہے، عذیر نے بتایا کہ والد صاحب اب بوڑھے ہوچکے ہیں انہوں نے ہمیں بہت محنت سے پڑھا لکھا کر بڑا کیا۔

نوجوان نے شکوہ کیا کہ پاکستان میں مجھ جیسے لوگوں کے لیے کہیں کوئی نوکری نہیں ہے، بس یہی سوچ کر چائے بیچنے کا کام شروع کردیا۔

Comments

Read Entire Article