غلام اسحاق خان: ایوانِ صدر تک پہنچنے والے اصول پرست بیورو کریٹ کی کتھا

1 month ago 14

پاکستان کی سیاست اور ایوانِ‌ اقتدار کے مختلف ادوار میں غلام اسحاق خان کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ وہ بطور بیورو کریٹ ایک اصول پرست اور ایمان دار شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ آج ان کا یومِ‌ وفات ہے۔ وہ 27 اکتوبر 2006ء کو پشاور میں وفات پاگئے تھے۔

غلام اسحاق خان نے نہ صرف اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں اور وزیر سے ملک کے صدر کے منصب تک پہنچے، لیکن دو وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے کے بعد انھیں بھی اپنا منصب اور سیاست چھوڑنا پڑی تھی۔

انھیں ایک دردمند اور حب الوطن سیاست دان بھی کہا جاتا ہے۔ غلام اسحاق خان 20 جنوری 1915ء کو بنّوں کے علاقے اسماعیل خیل میں پیدا ہوئے۔پشاور سے کیمسٹری اور بوٹنی کے مضامین میں گریجویشن کے بعد 1940ء میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

1955ء میں غلام اسحاق خان مغربی پاکستان کے سکریٹری آب پاشی مقرّر ہوئے اور 61ء میں واپڈا کے سربراہ بنے۔ اس کے بعد انھیں سیکرٹری خزانہ مقرر کردیا گیا۔ غلام اسحاق خان نے گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر بھی فرائض انجام دیے اور اس کے بعد سکریٹری جنرل دفاع کا قلم دان انھیں سونپ دیا گیا۔ اس حیثیت میں انھوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی بھی نگرانی کی۔ وہ پالیسی امور پر ضیا الحق کے دور میں‌ بھی نمایاں‌ رہے اور بعد میں ملک کے صدر بنے۔

وہ اپنے طویل سیاسی کیریر میں جوڑ توڑ، سازشوں کے ساتھ اہم اور حساس امور پر مشاورت میں حکم رانوں کے قریب رہے، لیکن بے نظیر بھٹو اور ان کے بعد نواز شریف کی حکومت سے ان کی نہ نبھ سکی۔

غلام اسحاق خان صدارت چھوڑنے کے بعد پشاور میں گوشہ نشین ہوگئے تھے۔

Comments

Read Entire Article