شمسی توانائی کا حصول، ورلڈ بینک کیا کرنے جارہا ہے؟

2 months ago 44

واشنگٹن: عالمی بینک نے افریقی ممالک میں بڑھتے توانائی بحران کا حل نکال لیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کا کہنا ہے کہ دو ہزار تیس تک بجلی کی کمی اور توانائی بحران کا شکار ممالک میں شمسی توانائی کی مدد سے چھوٹے گرڈز اسٹیشن بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے، یہ طریقہ کار تقریباً 50کروڑ لوگوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

ورلڈ بینک میں انفراسٹرکچر کے نائب صدر ریکارڈو پلیتی نے بتایا کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ورلڈ بینک ان ممالک میں چھوٹے گرڈ اسٹیشن کی تعداد بڑھانے میں مصروف عمل ہے، اس کی مدد سے بجلی بحران کا شکار ممالک کو جامع الیکٹریفیکیشن پروگرام تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی منصوبے کے لئے ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز کی خطیر رقم میسر ہوگی انہوں نے سولر انرجی کی افادیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دو ہزار اٹھارہ میں تقریباً 50 فی ملک فی سال لگنے کی تعداد آج 150 فی ملک فی سال تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان کیلئے قرض کی منظوری دے دی

ریکارڈو پلیتی کا کہنا تھا کہ خاص طور پر ان ممالک میں جہاں بجلی تک رسائی کی سب سے کم تھی، سولر منی گرڈ کی بدولت اب یہاں ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی جاری رہتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سولر منی گرڈز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت دو ہزار اٹھارہ میں صفر اعشاریہ پچپن کلو واٹ فی گھنٹہ تھی جو اب کم ہوکر صفر اعشاریہ اڑتیس کلو وات فی گھنٹے پر آچکی ہے۔

ورلڈ بینک میں انفراسٹرکچر کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ دو ہزار تیس تک 49کروڑ لوگوں کو سولر منی گرڈز سے منسلک کرنے سے ایک ارب 20کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بھی بچاجاسکے گا۔

Comments

Read Entire Article