چترال کی تاریخ کا پہلا منفرد ’ماں‘ ریسٹورنٹ

1 month ago 43

پاکستان کے پہاڑی سلسلے پر واقع شمالی علاقے چترال کا ایک منفرد ریسٹورنٹس سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شہری علاقوں سے سیاحت کے لیے شمالی علاقہ جات جانے والوں کو سیر و تفریح کے دوران اپنی مرضی کا لذیز کھانا ملنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، ایسے میں اگر کسی کو گھر کا کھانا مل جائے تو وہ اسے نعمت سمجھتا ہے۔

خیبرپختون خواہ کے ضلع اپرا چترال کے ہیڈکوارٹر بونی میں ایک ایسا ہی منفرد ’ماں‘ نامی ریسٹورنٹ ہے، جہاں گھر کے تیار کیے گئے کھانے دستیاب ہیں۔

چترال کی تاریخ کے اعتبار سے یہ پہلا ہوٹل ہے جہاں کا انتظام خاتون کے ہاتھ میں ہے جبکہ اُن کا صاحبزادہ طاہر الدین وہاں صرف معاونت کے لیے موجود ہوتا ہے۔

طاہر الدین نے اے آر وائی اسٹوریز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہوٹل کا ’نان کیفے‘ اس لیے رکھا گیا کیونکہ چترالی زبان میں ’نان‘ ماں کو کہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہاں اس سے پہلے خواتین باقاعدہ سیاحتی یا ریسٹورنٹس کے شعبے سے وابستہ نہیں ہوئیں تھیں۔

کیفے کھلنے کے بعد علاقے کے بزرگوں اور دیگر مردوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اقدار اور روایات کے خلاف قرار دیا، جس کے بعد بیٹھک کا انتظام ختم کر کے یہاں سے صرف پارسل کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

’ہم نے اس کا آغاز گھریلو باورچی خانے سے کیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے چترال کے مشہور ریسٹورنٹس میں سے ایک بن گیا، جو لوگ پہلے ریسٹورنٹ میں کام کرنے والی خواتین کے حوالے سے شور کرتے تھے اب وہ روزانہ یہاں سے کھانا خریدتے ہیں‘۔

طاہر کے مطابق اس ریسٹورنٹ کے قیام کا بنیادی مقصد خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے انہیں بھی اپنا حصہ دار بنانا ہے تاکہ وہ بھی روزگار حاصل کرسکیں۔

Comments

Read Entire Article