پیارے اباّ میں ہر روز آپ یاد کرتی ہوں، شہید ارشد شریف کی بیٹی کا والد کے نام خط

2 months ago 22

اسلام آباد : شہید ارشد شریف کی بیٹی نے والد کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ، خط کا ہر لفظ دکھ اورغم کی ایک داستان سنارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہید ارشد شریف کی بیٹی کا اپنے والد کے نام خط۔ لکھا ، جس میں ہر لفظ ابا کے پیار میں ڈوبا ہوا اور ہر لفظ والد کی جدائی کا دکھ سنا رہا ہے۔

بیٹی نے شہید والد کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا سچ بولنے کی یہ قیمت نہیں ہونی چاہئے، وہ لوگ سچے ہوتے تو جواب دیتے ،آپ کا منہ بند نہ کراتے۔

بیٹی نے خط میں کہا کہ پیارے اباّ مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے آپ کو ہم سے بچھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ جو ہوا ، بہت غلط ہوا ، سچ بولنے کی یہ قیمت نہیں ہونی چاہئے، کرپشن خلاف بولنے کی یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔

ارشد شریف کی بیٹی کا کہنا تھا کہ اباّ اپنے ملک سے اتنی محبت کہ اپنے آپ اور اپنے خاندان سے بھی زیادہ ہو، اس کی یہ سزا تو نہیں ہونی چاہئیے، میں سوچتی ہوں صرف بولنے کی اتنی بڑی سزا دہ گئی آپ کو ، وہ لوگ سچے ہوتے تو جواب دیتے ،آپ کا منہ بند نہ کراتے اور یہ نہ کرتے۔

خط میں بیٹی نے بتایا کہ جب بھی آپ سے کوئی کہتا تھا کہ بولنے سے پہلے اپنے بچوں کا تو سوچ تو آپ کہتے تھے اللہ پالے کا میری بچوں کو۔

ارشد شریف کی بیٹی نے کہا کہ اباّ اب تک جتنے لوگ بھی آئے یہی کہہ رہے تھے کہ اللہ ایسی شہادت سب کو دے لیکن میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اللہ نے شہادت تو دی مگر وقت کت فرعونوں نے بہیت ظلم کیا۔ ایسا ظلم کسی کو بھی نہ سہنا پڑے۔

خط میں کہنا تھا کہ لوگ آپ کے جنازے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایسا جنازہ نہیں دیکھا لیکن وہ یہ تو جانتے ہی نہیں کہ ایسا جنازہ حاصل کرنے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑتی ہے ، دیا غیر میں اپنوں سے اپنے خاندان سے دور جان دینے پڑتی ہئے ، دو کپڑوں میں دو ماہ گزارنے پڑتے ہیں بڑا جگرا چایئیے ہوتا ہے، اس دلوں کے بس کی بات بنیئبن

ارشد شریف کی بیٹی نے مزید کہا کہ اباّ آپ کو تو بخوبی علم تھا سچ کا کیا انجام ہوسکتا ہے ، لیکن آپ پھر بھی لڑے، ابا میں اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتی کہ سب لوگوں نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ، وہ لوگ جو کہتے تھے ہم ہمیشہ ساتھ ہے ، مشکل وقت میں ساتھ نہیں تھے وہ سب ڈر کر پیچھے ہٹ گئے اور اپنی بات سے ہی مکر گئے ، لیکن آپ پھر بھی لڑتے رہے۔

خط میں کہا کہ جیسا آپ کے استاد نے کہا کہ آپ ناامیدی کی دنیا میں امید کا چراغ لے کر نکلے تھے ، مجھے یاد ہے آپ کہتے تھے کہ میں ایک ہیرو کی طرح مروں گا،آج آپ نے اپنی ہر بات کی طرح یہ بات بھی پوری کردی ، آج آپ پوری دنیا کے لئے ایک ہیرو ہیں۔

بیٹی کا کہنا تھا کہ آپ حق پر ہے لیکن ہمیشہ اس بات کا افسوس رہے کہ کہ جب ضرورت تھی تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی، میں تو اس چیز کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کہ آپ کس کرب سے گزرے ہوں گے، اتنا ظلم آپ نے مسکرا کر سہہ لیا اور اپنے چہرے پر تکلیف ظاہر ہی نہیں ہونے دی۔

ارشد شریف کی بیٹی نے کہا ابا آپ کی مسکراہٹ میں کبھی نہیں بھول سکتی ، پیارے ابا آپ کے لئے اپنے پیار کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی ، آپ کے لئے میرا پیار ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے لیکن ہر گزرتا دن میرے اندر ایک خالی پن کا احساس پیدا کرتا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ میں سوچتی ہو کہ میں کیسے وقت کو پیچھے کردوں کہ آخری بار آپ کو گلے سے لگا سکوں اور آپ کو یہ بتاسکوں کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں ، کاش ایسا ہو سکتا۔

مجھے یاد ہے آخری بار جانے سے پہلے آپ نے گلے لگا کر بولا تھا پریشان نہ ہو جلد واپس آؤں گا لیکن جانے سے پہلے آپ یہ تو بتا کر ہی نہیں گئے کہ کہ آپ اس طرح واپس آئیں گے کہ ہم سے کبھی بات نہیں کریں گے اور ہمارے ساتھ خوشیوں میں شامل نہیں ہوں گے اور اب جب آپ یہاں نہیں ہے تو مجھے نہیں پتہ یہ وقت کیسے گزرے گا لیکن میں یہ چاہتی ہو یہ وقت جلدی گزرے تاکہ ہم آپ سے ایک بار پھر سے ملیں اور میں آپ کو ایک بار پھر مسکراتا دیکھ سکوں۔

میرے پیارے ابا اس دنیا میں آپ کا نعم البدل کوئی نہیں ہے ، میں آپکو بہت یاد کرتی ہو ، ہر روز یاد کرتی ہوں آپ سے جلد ملوں گی۔

بیارے ابا میں جانتی ہو آپ مجھے سن سکتے ہیں دیکھ سکتے ہیں ، آپ کو پتہ ہے میں کیا محسوس کررہی ہو ، میں آپ کو بتانا چاہتی ہو میں آپ پر بہت ناز کرتی ہوں اور یہ بات فخر سے کرسکتی ہوں کہ ارشد شریف کی بیٹی ہوں۔

آپ نے ہم سب کا سر فخر سے بلند کردیا ہے ، اپنے ضمیر کا سودا نہ کرکے یہ بات ثابت کردی کہ ظلم کہ آگے یہ سر کٹ کو سکتا ہے ، جھک نہیں سکتا۔

مجھے شاید اس بات کا بھی علم ہےکہ اس دنیا میں انصاف نہ ملے کیونکہ یہاں جنگل کا قانون ہے لیکن اللہ کی بار گاہ میں ان ظالموں کا حساب ضرور ہوگا، ہم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔

آپ کی لاڈلی بیٹی پوری کوشش کرے گی جب تک اس دنیا میں ہے آپ کا نام روشن کرے ، آپ کا بھی سراسی طرح سے بلند کرے جیسے آپ نے کیا، ہم جلد ملیں گے۔

Comments

Read Entire Article