سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت

1 month ago 26

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق آئی جی پنجاب پولیس مشتاق احمد سکھیرا اور رانا عبدالجبار نے بریت کی درخواستیں دائرکردی ہیں۔

ہفتے کولاہورمیں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج اعجازاحمد بٹر نے درخواست پر سماعت کی۔ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا اور سابق ڈی آئی جی رانا عبدالجبار نے درخواستوں میں موقف اختیار کیا کہ عدالت نے کمشنر لاہور کیپٹن (ر)عثمان کوبری کردیا ہے،ہمارا بھی اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ گولیاں کا آرڈر نہیں دیا اور صرف سیاسی بنیادوں پر نامزد کیا گیا،حقائق کے منافی نام استغاثہ میں شامل ہے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ عدالت بری کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے بریت کی درخواستوں پر پراسیکوٹر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اورسماعت 3 جون تک ملتوی کردی۔ اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپریل 2022 میں ماڈل ٹاؤن واقعے میں لاہور کے اس وقت کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کو بری کردیا تھا۔ لاہور میں بطور کمشنر تعینات محمد عثمان نے عدالت میں کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 265-کے تحت ایک درخواست دائر کی تھی جس میں پاکستان عوامی پارٹی (پی اے ٹی) کی ذیلی تنظیم ادارہ منہاج القرآن کی جانب سے دائر کی گئی ایک نجی شکایت پر مقدمے کی کارروائی میں ان کی بریت کی درخواست کی گئی تھی۔ محمد عثمان پر ایک ملاقات میں شرکت کا الزام لگایا گیا تھا جہاں ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر رکھی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کی مبینہ سازش کی گئی۔

اپنے فیصلے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 3 کے پریزائیڈنگ جج اعجاز احمد بٹر نے مشاہدہ کیا کہ مبینہ سازش اور درخواست گزار کی حاضری کی حقیقت کو ٹرائل کورٹ نے 7 فروری 2017 کے اپنے حکم میں پہلے ہی مسترد کر دیا تھا اور اسے قبول نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی شکایت کے مندرجات کے مطابق درخواست گزار کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔

ماڈل ٹاؤن میں 2014 میں پیش آنے والے واقعے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان عوامی پارٹی نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف، اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی تقریباً تمام وفاقی اور صوبائی کابینہ کے علاوہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کے خلاف ایک شکایت درج کرائی تھی جس میں ان پر ان 14 کارکنان کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔

Read Entire Article