حکومت بھارت کےساتھ تجارت کے فیصلے پر نظرثانی کرے،شاہ محمود

1 month ago 51

سابق وزیرخارجہ اور وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ  حکومت نے بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیاہے مگر حکومت کو اس پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیاہے، ہم نے اس وقت کابینہ میں بحث کے بعد بھارت سے تجارتی بحالی کی مخالفت کی تھی کیونکہ بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس یکطرفہ اقدامات کیے تھے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہمارا سفارتخانہ 50 فیصد سٹاف کے ساتھ کام کررہا ہے، حکومت نے 15 کے قریب ٹریڈ آفیسرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، دہلی میں بھی ٹریڈ آفیسر تعینات کرنے فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ  بھارت کے ساتھ تجارت کو شروع کیا جاسکے۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت میں کابینہ میں تجویز آئی تھی بھارت کیساتھ تجارت کو کھولا جائے، کابینہ نے اور میں نے بھی فیصلے کی مخالفت کی، کیا آپ نے آزادکشمیر حکومت سے اس فیصلے پر رائے لی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آپ نے کشمیرمیں ظلم سہتے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے، اس پر آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھی ردعمل آئے گا۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنایا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملک میں گندم کی کٹائی تقریبا مکمل ہو چکی ہے،اعداد وشمار کے مطابق کھپت، پیداوارمیں 3 ملین ٹن کا فرق ہے، کیا حکومت نے 3 ملین ٹن گندم کا بندوبست کیا ہے؟ اگرحکومت نے گندم کا بندوبست نہیں کیا توبحران آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ  اگر گندم باہرسے منگوائیں گے تو 600 روپے من کا گیپ ہو گا، ہم نے روس کے ساتھ گندم کا معاملہ اٹھایا، روس 2 ملین ٹن ڈسکاؤنٹ ریٹ پردینے کے لیے تیارتھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں اس وقت پانی کا سنگین بحران ہے، کسان، کاشت کارسراپا احتجاج ہیں، بھارت دریا چناب پر نیا پراجیکٹ بنا رہا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے، کیا وزیرخارجہ بلاول نے کوئی نوٹس لیا ہے؟ ان ایشوز کو کون دیکھے گا۔

سابق وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو امریکا جارہے ہیں توقع کرتا ہوں بلاول امریکی وزیر خارجہ کو ڈوزیئر تھما کر کشمیریوں کی ترجمانی کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

Read Entire Article