‘وزیریہ’ کا نو مسلم ٹھاکر اور خواجہ حسن نظامی

1 month ago 35

خواجہ صاحب نے اپنی زندگی میں قومی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ تحریکِ خلافت، حادثہ مسجدِ کانپور، شدھی تحریک کی مخالفت اور تحریکِ پاکستان کے لیے ان کے مخلصانہ کارناموں پر ضخیم کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ تاہم میرے خیال میں ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ "شدھی تحریک” سے مقابلہ ہے۔

اپنی پُراثر تحریروں اور پُرجوش تقریروں سے انہوں نے سوامی شردھانند کا ناطقہ بند کردیا تھا۔ ان کی شب و روز تبلیغی جدوجہد سے جہاں لاکھوں آدمی مرتد ہونے سے بچ گئے وہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً اسی ہزار کفار دائرۂ اسلام میں شامل ہوئے۔ خواجہ صاحب نے شہروں میں اپنی خطابت کا جادو جگانے کے بجائے دور افتادہ دیہات میں اس کا تعاقب کیا اور نہ صرف اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ ان پڑھ دیہاتیوں کے دلوں میں ایمان و ایقان کی ایسی شمعیں روشن کیں، جنہیں بعد میں کفر و باطل کی تیز آندھیاں بھی نہ بجھا سکیں۔

کاٹھیاواڑ کے علاقے میں ایک چھوٹی سے ریاست "وزیریہ” تھی۔ یہاں کے نو مسلم راجہ ٹھاکر صاحب کہلاتے تھے۔ ٹھاکر صاحب اور ان کی ریاست کے چھ لاکھ ہم قوم ہندو ہونے پر تل گئے۔

خواجہ حسن نظامی نے ٹھاکر صاحب سے فرمایا، "ٹھاکر صاحب! آپ کیوں ہندو ہونا چاہتے ہیں؟”

ٹھاکر صاحب بولے: "لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہی کہ کیسے راجپوت ہو کہ مسلمانوں کی تلوار سے ڈر کر تم نے اسلام قبول کر لیا؟”

خواجہ صاحب نے پوچھا: "کیا تمہارے دادا نے واقعی تلوار کے خوف سے اسلام قبول کیا تھا؟”

ٹھاکر صاحب بولے: "نہیں، نہیں۔ انہوں نے اسلام کو سچّا دین جان کر اسے قبول کیا تھا۔”

خواجہ صاحب بولے: "تو پھر آپ لوگوں سے کیوں نہیں کہتے کہ ہم بہادر راجپوت ہیں، اور ہم نے بہادروں کا دین قبول کیا ہے۔ بہادروں کے لیے بہادروں کا دین ہے اور بزدلوں کے لیے بزدلوں کا دین ہے۔ آپ کے دادا بہادر تھے، انہوں نے بہادروں کا دین قبول کیا تھا۔”

یہ کہہ کر خواجہ صاحب نے کچھ پڑھ کر ٹھاکر صاحب کے سینے پر دم کیا۔ ٹھاکر صاحب بولے: "کچھ بھی ہو، اب میں بنیوں کا دین قبول نہیں کروں گا، اسلام واقعی بہادروں کا دین ہے۔”

خواجہ صاحب کا طرزِ تبلیغ بڑا مؤثر تھا۔ وہ ہر شخص سے اس کی ذہنی استعداد کے مطابق بات چیت کرتے اور اسلام کی حقانیت ذہن نشین کراتے تھے۔

شدھی تحریک کے زمانے میں انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں ہینڈ بلز، پمفلٹ اور کتابیں شائع کیں۔ اس زمانے میں ان پر ہندوؤں کی طرف سے قاتلانہ حملے بھی ہوئے، جھوٹے مقدمے بھی قائم ہوئے، فحش گالیاں بھی دی گئیں، لیکن وہ تبلیغ دین اور اشاعتِ اسلام سے باز نہیں آئے۔ وہ اردو زبان کے بہت بڑے ادیب تھے، بلاشبہ انہوں نے اپنے قلم سے تبلیغِ دین کا حق ادا کیا۔

(از قلم: خواجہ عابد نظامی)

Comments

Read Entire Article