یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر طالب علم نے انتہائی قدم اٹھا لیا، 2 پروفیسر جاں بحق

1 month ago 28

بغداد: عراق میں ایک طالب علم نے یونیورسٹی میں داخلہ نہ دینے پر طیش میں آ کر فائرنگ کردی اور 2 پروفیسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق عراقی کردستان کی یونیورسٹی کے سابق طالب علم نے 2 پروفیسروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

یونیورسٹی کے عراقی طالب علم نے یونیورسٹی کیمپس کے سامنے فیکلٹی آف لا کے ڈین پر فائرنگ کی جن کے سر اور سینے میں گولیاں لگیں، انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ چل بسے۔

بعد ازاں عراقی طالب علم نے اربیل کے ایک محلے میں واقع فیکلٹی آف انجینیئرنگ کے پروفیسر کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی۔

ذرائع کے مطابق طالب علم ایک یونیورسٹی سے نکالے جانے اور دوسری یونیورسٹی میں ٹرانسفر کی درخواست مسترد کیے جانے پر ناراض تھا۔

اربیل کے گورنراومید خوشناؤ نےبتایا کہ طالب علم نے پہلے فیکلٹی آف لا کے ڈین کاوان اسماعیل پر صلاح الدین یونیورسٹی میں فائرنگ کی اور پھر صلاح الدین یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینیئرنگ میں مکینکل کے پروفیسر ادریس عزت کے گھر میں گھس کر انہیں نشانہ بنایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان عادی مجرم اور کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

فیکلٹی آف انجینیئرنگ کی ڈین نجاۃ احمد نے بتایا کہ پروفیسر ادریس کی اہلیہ بھی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ شمالی اربیل کی سوران یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ پروفیسر ادریس کی اہلیہ نے دھمکی دینے پر نوجوان کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی اورعدالت سے رجوع کیا تھا۔

پولیس کا خیال ہے کہ سابق طالب علم کا ارادہ پروفیسر ادریس کی اہلیہ کو قتل کرنے کا تھا جو اس وقت گھر پر موجود نہیں تھیں۔

اربیل کے گورنراومید خوشناؤ نے بتایا کہ ملزم کو پروفیسر ادریس کی اہلیہ نے شمالی اربیل کی سوران یونیورسٹی سے نکال دیا تھا، پھر صلاح الدین یونیورسٹی میں فیکلٹی آف لا کے ڈین نے اسے داخلہ دینے سے انکار کیا تھا۔

سوران یونیورسٹی سے نکالے جانے پر سابق طالب علم نے ڈاکٹر ادریس کی اہلیہ کو جان سے مارنے کی دھممکی دی تھی اور اسے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

Comments

Read Entire Article