وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

1 month ago 29

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن 22 جولائی کی شام 4 بجے پنجاب اسمبلی کی عمارت میں ہوگا۔ اورانتخابی عمل کےاجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر کریں گے۔

فیصلے کے مطابق پنجاب اسمبلی کااجلاس اسمبلی کی اپنی عمارت میں ہی ہوگا،ا ور دوبارہ انتخاب کے قانونی تقاضے اسپیکراور ڈپٹی اسپیکر پورے کریں گے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے دوبارہ انتخاب تک حمزہ شہباز اور کابینہ شفاف ضمنی انتخابات یقینی بنائیں، عوام کوضمنی انتخاب میں حق رائےدہی سےمحروم نہیں کیاجاسکتا۔

فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ مخصوص نشستوں پر تفصیلی فیصلہ ایک ہفتےمیں جاری کرے، اور ہائی کورٹ کا فیصلہ ملتے ہی الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے، متاثرہ فریق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں صاف شفاف ضمنی انتخابات کو یقینی بنایا جائے، صوبائی حکومت، وزراء اور انتظامیہ ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد یقینی بنائیں، حکومتی عہدیدارمخالفین کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال سے باز رہیں، اور ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن اور انتظامیہ پر اثرانداز نہ ہونا یقینی بنایا جائے۔

فیصلے میں تحریر ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران ترقیاتی منصوبوں کااعلان نہ کیاجائے، انتخابی حلقوں میں افسران کی تقرریوں اور تبادلوں پرپابندی ہوگی۔

فیصلے میں وعدے کی پاسداری کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اسپیکر پرویز الہیٰ نے اسمبلی کارروائی جمہوری اندازمیں آگے بڑھانے کی یقین دہانی کروائی، حمزہ شہباز نے بھی یقین دلایا کہ ضمنی انتخاب سمیت تمام مراحل پرامن ہوں گے، توقع ہے حمزہ شہباز اور پرویز الہٰی دونوں اپنی یقین دہانیوں کا پاس رکھیں گے۔

عدالت نےلاہورہائیکورٹ کےفیصلےمیں ترمیم کرتےہوئےپی ٹی آئی کی اپیل نمٹادی، اور کہا کہ تینوں جماعتوں کی قیادت نےمسئلے کے حل کیلئےاعلیٰ ظرفی دکھائی جو قابل تحسین ہے۔

Read Entire Article