کیا کورونا سے متاثرہ ماں نومولود کو متاثر کر سکتی ہے؟

1 week ago 64

کراچی: کیا کورونا وائرس سے متاثرہ ماں اپنے نومولود بچے کو متاثر کر سکتی ہے یا نہیں، اس حوالے سے ماہرین کی تحقیق میں اہم انکشاف ہوا ہے۔

ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ جامعہ کراچی کے تحت کرونا وائرس (SARS-CoV-2) پر ہونے والے جامع تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ماں سے نومولود بچوں میں وائرس منتقل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں، یہ تحقیق دراصل زچّہ سے نومولود بچوں میں کورونا وائرس کی منتقلی کے رجحان پر کی گئی ہے۔

بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ تحقیق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی جامعہ کراچی میں زینب پنجوانی میموریل اسپتال کے تعاون سے کی گئی جب کہ جے ایس بینک نے اس تحقیق کی مالی معاونت کی۔

بین الاقوامی مرکز کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس تحقیق میں 18 مارچ سے 31 دسمبر تک 140 حاملہ خواتین کو رجسٹرڈ کر کے اُن کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے، ان خواتین میں اکثریت کا تعلق کراچی کے ضلع وسطی اور شرقی سے تھا، ان خواتین کو کورونا وائرس کی مختلف لہروں کے دوران سائینسی بنیادوں پر پرکھا گیا۔

ترجمان کے مطابق رجسٹرڈ خواتین میں ہلکی اور درمیانے درجے کے انفیکشن سے متعلق آثار پائے گئے جب کہ شدید لہروں کے درمیان بھی کسی خاتوں میں انتہائی درجے کا انفکیشن نہیں پایا گیا، اس پورے عمل کے دوران انفیکشن کے ساتھ اور اس کے بغیر خواتین میں یکساں کلینکل علامتیں ظاہر ہوئیں۔

بین الاقوامی مرکز کے ترجمان نے کہا ہے کہ تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچوں کی پیدائش کے لیے آپریشن، حمل کا گرنا، وقت سے پہلے پیدائش اور امواتِ زچگی میں کورونا انفیکشن باعثِ خطرہ نہیں ہے۔

ترجمان کے مطابق تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پیدائش کے بعد نومولود بچوں میں فوری طور پر وائرس کی تشخیص نہیں ہوتی جب کہ اینٹی باڈیز ضرور منتقل ہوتی ہیں، زچہ کو اگر ویکسین لگا ہوا ہے تو اس کی مدد سے وائرس بچوں میں منتقل نہیں ہوپاتا، وائرس سے متاثرہ ماں خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ پیدائش کے سات روز بعد بچوں میں وائرس منتقل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی ایشیائی عوام پر یہ پہلے سب سے منظم تحقیق ہے۔

Comments

Read Entire Article