کرنٹ‌ اکاؤنٹ‌ خسارے میں‌ اضافے کی تصدیق، رپورٹ‌ جاری

1 week ago 41

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2021 ، 2022 کے پہلے سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اکتوبر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5.084بلین ڈالرز رہا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی،اکتوبر 2020میں کرنٹ اکاؤنٹ1.313بلین ڈالرز سرپلس تھا، جو اکتوبرمیں بڑھ کر 1.66بلین ڈالرتک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2021میں 1.13بلین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے نوٹس کے باوجود امریکی ڈالر 175روپے سے تجاوز کرگیا

اسٹیٹ بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ برآمدات، ترسیلات زرمیں معمولی کمی، سروسزسیکٹر کی درآمدات میں اضافے کو قرار دیا۔ ترجمان ایس بی پی کے مطابق تیل کی بلند قیمتوں سے درآمدی بل میں بھی اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے رواں سال کے ابتدائی ایام میں گزشتہ مالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ  مالی سال دسمبر 2020میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور 5ماہ مسلسل کرنٹ اکاونٹ سرپلس رہنے کے بعد خسارے میں تبدیل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: جولائی سے اکتوبر تک ترسیلات زر 10.6 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی: فرخ حبیب

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دسمبر 2020 میں 66کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ  رواں مالی سال 6ماہ میں مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 10 کروڑ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں دو ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جبکہ دسمبر 2020 میں برآمدات اور ترسیلات میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہا۔

Comments

Read Entire Article