پی ٹی آئی کا کراچی کے بلدیاتی الیکشن کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

1 week ago 30

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن بدلیاتی انتکابات کو کالعدم قرار دے کر نئے انتخابات کرائے

اسلام آباد میں عامرڈوگر اور ریاض فتیانہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی الیکشن بار بار ملتوی کئے گئے، کراچی میں ہمارے مینڈیٹ کو دھونس ، زبردستی اور طاقت کے استعمال سے چرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ 15 جنوری کی صبح ہی دھاندلی شروع کردی گئی تھی، پہلے ہی بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے گئے۔ بلدیہ ٹاؤن میں ہمارے امیدوار نے ایک ویڈیو بنائی کہ کس طرح پیپلز پارٹی نے ٹھپے لگا کر بیلٹ پیپرز پہنچائے، یہ دھاندلی سامنے لانے والے امیدوار اور اس کے 2 بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

اسد عمر نے کہا کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد تو ایسا تماشا شروع ہوا کہ شائد پاکستان میں کبھی بھی کسی نے نہ دیکھا ہوا۔ آر اوز اور ڈی آر اوز منتیں کررہے ہیں کہ ہمارے بچے ہیں ہم نتائج نہیں دے سکتے ، مینڈیٹ چوری کئے جانے پر احتجاج ہوا تو ان پر تشدد شروع کردیا،ہمارے ارکان صوبائی اسمبلی کےخلاف دہشتگردی کے مقدمات درج ہوئے، اسی طرح حیدر آباد کی 16 یوسیز پر دھاندلی کے الزام بھی سامنے آرہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص ایک خوفناک کھیل کھیلا جارہا ہے۔ سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر پر دو کوڑی لگتی نظر نہیں آتی۔ شہر کی آبادی کا شمار بھی ٹھیک سے نہیں کرنے دیا جاتا، عمران خان نے بطور وزیر اعظم دیجیٹل مردم شماری کا اعلان کیا، وہ تمام تاریخیں گزر چکیں، ابھی تک اس کے وعدے ہورہے ہیں، اس کا اب تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آرہا۔

اسد عمر کا کہنا تھاکہ کراچی کو ہر طریقے سے دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے، اب یہ بتایا جارہا ہے کہ کراچی میں لوگوں کی صحیح گنتی تو ہونے نہیں دیں گے، کہ کہیں کدانکواستہ ایسا نہ ہو کہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے نتائج ہی بدل جائیں، اور کراچی کو اس کا جائز حق مل جائے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کراچی والوں کو دیوار سے لگانے میں جو جو ملوث ہے وہ پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ ہے، کل اگر کراچی والے اپنے ساتھ ظلم پر کھڑے ہوجائیں گے تو کہا جائے گا کہ کہاں سے دہشت گرد آگئے۔ کراچی نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی صوبے میں 6 مرتبہ حکومت میں آنے والی پارٹی کو مسترد کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو جلسہ کرانے کے لئے کراچی میں دوسرے شہروں سے لوگ لانے پڑتے ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھاکہ جعلی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ تحریک انصاف ہے، یہ لوگ عمران کان سے خوفزدہ ہیں، پوری قوم عمران کان کے ساتھ کھڑی ہے اور سر جھکانے کو تیار نہیں، جتنا بھی کوشش کر لیں کراچی کی آواز اب دبائی نہیں جاسکتی، کراچی کسی صورت اس مقامی حکومت کے انتخابی نتائج کو قبول نہیں کرے گا۔

الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کراچی میں صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات میں ناکام رہا ہے، الیکشن کمیشن کو مستعفی ہونا چاہیے، بلدیاتی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے اور نیا الیکشن کرایا جائے۔

Read Entire Article