پاکستان کئی دہائیوں سے دریائے کابل معاہدے کا خواہاں

3 days ago 16

کئی دہائیوں سے پاکستان دریائے کابل پر افغانستان کے ساتھ معاہدے کا خواہاں ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے انتظام اور تقسیم پر معاہدہ ممکن ہوسکے گا۔

افغانستان سے پاکستان کی طرف بہنے والا دریائے کابل، جو دریائے سندھ سے جاکرملتا ہے، دونوں ممالک میں ایک اندازے کے مطابق 20 ملین لوگوں کیلئے پینے کے پانی، آبپاشی، پن بجلی، ذریعہ معاش اور تفریحی سرگرمیوں کا ذریعہ ہے۔ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی بار بار کوششوں، اور موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ دریا کے بہاؤ میں تبدیلی کے نتیجے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنے کی اشد ضرورت کے باوجود، مذاکرات میں بہت کم پیش رفت ہونے کا امکان ہے۔

افغانستان کی وزارت خارجہ میں پانی اور توانائی کے خصوصی معاون اکرام الدین کامل نے دی تھرڈ پول کو بتایا: ’’موجودہ صورتحال میں، افغانستان پاکستان کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی [کنونشن] برائے بین السرحدی دریا ابتدائی تعمیرات کے حق میں ہے‘‘۔

بین الاقوامی واٹر کورسز کے غیر بحری استعمال کے قانون پر 1997ء کے کنونشن کے تحت، جب ممالک کسی معاہدے پر بات چیت کرتے ہیں تو موجودہ انفراسٹرکچر زیربحث نہیں لایا جاتا اور اسے ختم کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ لیکن وہ پروجیکٹس جو فی الحال منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں، ان پہ بات کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے پاس پہلے سے ہی دریائے کابل کے اپنے حصے پر متعدد بیراج، آبپاشی کی نہریں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور وہ یہ دلیل دے گا کہ اگر افغانستان اسی طرح کے ڈھانچے بالائی طرف بنائے گا تو ان بنیادی ڈھانچوں کو مناسب پانی فراہم نہیں ہوپاۓ گا۔

کامل نے کہا، ’’دریائے کابل کے طاس پر کسی بھی قسم کی تعمیر نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو کشیدہ کیا ہے۔ کابل مستقبل میں مشترکہ ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس شروع کر سکتا ہے جس کے تحت افغانستان پاکستان کو آبپاشی کے لئے پانی فراہم کرے گا اور اس کے بدلے میں ٹرانزٹ ٹریڈ اور خدمات کے معاہدے حاصل کرے گا‘‘۔

کامل نے کہا ’’افغانستان نے دریائے کابل اور اس کی معاون ندیوں پر 12 منصوبے تجویز کئے ہیں، جب کہ پانچ ڈیم جن میں چک، ماہیپر، سراوبی، ناگھالو اور درونق ڈیم مکمل اور آپریشنل ہو چکے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے دریائے کابل اور اس کی معاون ندیوں پر 12 مزید ذخیرہ کرنے کی جگہوں کی نشاندہی کی ہے، جن کی مشترکہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 4.7 ملین ایکڑ فٹ (تقریباً 5.8 کیوبک کلومیٹر) ہے۔

مجوزہ منصوبوں میں سے ایک شہتوت ڈیم ہے جسے بھارت نے فروری 2021 میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کے ساتھ تعمیر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ 2021 کے آخر میں طالبان کے افغانستان میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے کام تعطل کا شکار ہے۔

  دریائے کابل کا معاہدہ زیادہ ضروری ہوتا جارہا ہے

دریائے سندھ کےاس اہم معاون اور بین السرحدی دریا پر معاہدہ کی ضرورت زیریں پاکستان کیلئے ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔ زیریں بہاؤ والے پاکستان میں افغانستان کی نسبت زیادہ لوگ پانی کیلئے مکمل طور پر دریائے کابل پر انحصار کرتے ہیں۔

تاہم، گزشتہ 40 سالوں میں افغانستان میں مرکزی طور پر منظم حکومت کی کمی نے معاہدے پر پیشرفت میں رکاوٹ ڈالی ہے، پانی کے ماہر اور کابل یونیورسٹی کے پروفیسر فیض زالند نے اسکی نشاندہی کی۔

خیبرپختونخوا کی ریاستی حکومت میں محکمہ آبپاشی میں ترقیاتی کاموں کے چیف انجینئر ناصر غفور نے کہا، پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے اور اسی طرح پانی کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ چناچہ، پانی کے بہتر انتظام، علاقائی ترقی، امن اور مجموعی ماحول کے لئے بالائی اور زیریں دریا کے حقوق کی روشنی میں اس دریا کے حوالے سے ایک معاہدہ ضروری ہے۔ خیبر پختونخواہ وہ ریاست ہے جہاں سے دریائے کابل پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

تاہم، گزشتہ 40 سالوں میں افغانستان میں مرکزی طور پر منظم حکومت کی کمی نے معاہدے پر پیش رفت میں رکاوٹ ڈالی ہے، پانی کے ماہر اور کابل یونیورسٹی کے پروفیسر فیض زالند نے اسکی نشاندہی کی۔

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے محمد اقبال نے اپنے 2020ء کے پی ایچ ڈی مقالے میں لکھا، ’’2001ء سے 2014ء کے عرصے کے دوران، پاکستان نے عالمی بینک اور بین الاقوامی برادری کے ذریعے دو طرفہ بنیادوں پر متعدد سفارتی کوششیں کیں تاکہ ڈیٹا شیئرنگ کا طریقۂ کار وضع کیا جا سکے اور دریائے کابل پر معاہدہ طے کیا جا سکے‘‘۔  انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے ڈیٹا کی کمی، مذاکرات کی مہارت، نامکمل پانی کی پالیسی وغیرہ کی درخواستوں پر بات چیت سے گریز کیا۔

اسلام آباد کا محتاط رویہ

اس معاملے پر دی تھرڈ پول سے انٹرویو کے دوران  پاکستانی حکام کا محتاط  رویہ دیکھنے میں آیا،  انہیں خدشہ ہے کہ کابل میں حکومت کی طرف سے کوئی منفی ردعمل ان گروہوں کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے جو پُرامن حل کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کئی دہائیوں سے دریائے کابل کے معاہدے کا خواہاں ہے، خاص طور پر 2000ء کی دہائی کے اوائل سے جب  اس وقت کی افغان حکومت نے دریائے کنار پر کاما ہائیڈروپاور پراجیکٹ کی تجویز پیش کی تھی۔ دریائے کنار پاکستان میں شروع ہوتا ہے (جسے اس کے اوپری حصے میں چترال کہتے ہیں) پھر افغانستان میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ دریائے کابل میں بہتا ہے۔

جب یہ منصوبہ تجویز کیا گیا تو پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا۔ محکمہ آبپاشی کے سابق چیف انجینئر ریاض احمد خان نے دی تھرڈ پول کو بتایا ’’خیبرپختونخوا (جسے اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ کہا جاتا تھا) کے محکمہ آبپاشی کے انجینئرز کی ایک ٹیم نے، جس کا میں حصہ تھا، اس وقت کے گورنر افتخار حسین شاہ کو مجوزہ ڈیم کے اثرات سے آگاہ کیا‘‘۔ خان نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ کابل کے سامنے اٹھایا گیا لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس نے پاکستان کو ایک تجزیاتی  سروے کرنے کی ترغیب دی جو دریا کو سرنگوں کے ذریعے دریائے پنجگورہ کی طرف موڑنے کیلئے اپ اسٹریم پوائنٹس کی نشاندہی کرے گا۔

خان نے کہا کہ اگرچہ افغانستان کے منصوبے مستقبل قریب میں مکمل نہیں ہو سکتے، لیکن اگر وہ مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے پاس دریائے کنار کو موڑنے کے منصوبے پر کام کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے افغانستان میں دریائے کابل پر تمام پن بجلی اور آبپاشی کے نظام متاثر ہوں گے، زمین بنجر اور پانی خشک ہو جائے گا، تباہ کن ماحولیاتی اور انسانی اثرات مرتب ہوں گے، اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا باعث بنیں گے۔

پاکستان میں بھی دریائے کابل کے نشیبی علاقوں میں اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے نشاندہی کی کہ دریائے کابل خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ صوبوں میں آبپاشی کے لئے پانی فراہم کرتا ہے۔

ریاست کے محکمہ آبپاشی کے ایگزیکٹو انجینئر ممریز خان کے مطابق، صرف خیبر پختونخوا میں، دریائے کابل چار بڑی نہروں کے ذریعے تقریباً 32,000 ہیکٹر رقبے کو سیراب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 1,000 چھوٹی آبپاشی کی نہریں ہیں جو دریا سے کھیتوں تک جاتی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پانی اور صفائی کی خدمات کے جنرل منیجر پروجیکٹس محبوب عالم نے کہا کہ یہ دریا مہمند، خیبر، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور مردان اضلاع کے آبی ذخائر کو ری چارج کرتا ہے، جس سے لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی ملتا ہے‘‘۔

مل کر کام کرنے کی بارہا کوششیں

سال 2014ء کے اوائل میں پاکستان نے افغانستان میں اپنے سفارتخانے کے ذریعے دریائے کابل پر مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور دریا کے طاس پر ماحولیاتی، سماجی اور اقتصادی ڈیٹا شیئر کرنے کی ایک اور کوشش کی۔

اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق افغان حکومت نے تب بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ پاکستان نے دریائے کابل معاہدے تک پہنچنے کیلئے متعدد کوششیں کی ہیں۔ انڈس واٹر کمشنر شاہ نے کہا کہ دونوں ممالک میں آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی تاخیر سے ماحولیاتی اور معاشی اثرات سنگین ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’پاکستان کے پاس دریا کے انتظام میں مہارت ہے اور اس کے پاس دریا کی پیمائش کرنے والے بہترین نظاموں میں سے ایک ہے جو ڈیٹا اکٹھا کرنے اور دریا کے بہتر انتظام میں افغانستان کی مدد کر سکتا ہے‘‘۔

پاکستان کے سابق سفارتکار اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سابق ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفقت کاکاخیل نے دریائے کابل پر ہونے والے معاہدے کے فوائد پر تفصیل سے لکھا ہے، جبکہ دیگر ماہرین نے پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کے فوائد اور نقصانات پر بات کی ہے جس میں دوسرے طاس ممالک چین اور افغانستان ( اور اسی لئے دریاۓ کابل)  کو شامل کرنے کے لیے توسیع کی گئی۔

دریائے کابل کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کے بیچ آٹھ دیگر مشترکہ دریا ہیں۔ ماضی میں پاکستان میں آزاد ماہرین یہ تجویز کرتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ ان تمام دریائی طاسوں کو مل کر پائیدار طریقے سے ترقی دینے کیلئے کسی معاہدے پر پہنچیں لیکن وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایسی صورتحال اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ دونوں ممالک پہلے دریائے کابل پر کوئی معاہدہ نہیں کرلیتے۔

فواد علی ایک آزاد صحافی ہیں اور ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ تعلیم سمیت متعدد مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایکسپریس ٹریبیون اور سماء ڈیجیٹل کے لئے بطور رپورٹر اور دی اسٹیٹس مین میں بطور سب ایڈیٹر کام کیا ہے۔ وہ @fawadalishah84 پہ ٹویٹ کرتے ہیں۔

یہ آرٹیکل پہلے تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ پر شائع ہوا تھا، جسے ادارے کی اجازت سے سماء پر شائع کیا جارہا ہے۔

WhatsApp FaceBook

Read Entire Article