معروف محقّق، ماہرِ لسانیات و آثارِ قدیمہ ابوالجلال ندوی کی برسی

1 week ago 21

ابوالجلال ندوی مشہور محقّق، نقّاد، معلّم اور ماہرِ لسانیات تھے جنھوں نے موئن جو دڑو سے برآمد ہونے والی قدیم مہروں کی تشریح و توضیح پر تنقیدی اور وقیع کام کیا۔ وہ 14 اکتوبر 1984ء کو وفات پاگئے تھے۔

دارُ العلوم ندوۃُ العلما سے فراغت پانے والے ابوالجلال ہندوستانی نژاد پاکستانی تھے۔ وہ سید سلیمان ندوی کی نگرانی میں دارُ المصنّفین میں کام کرنے والوں میں شامل تھے، جہاں انھیں علمی و تحقیقی ماحول میں ادبی و لسانیات سے گہرا شغف ہوگیا اور بعد ازاں ان کی تحقیق اور علمی مواد رسائل کی بدولت عام ہوا۔

ابو الجلال ندوی کی زندگی کو دو ادوار میں منتقسم کیا جائے تو ایک طرف وہ ہندوستان میں رہ کر اعلام القرآن اور قدیم تہذیبوں بالخصوص یمنی تہذیب کے کتبات وغیرہ پر کام کرتے رہے اور بعد میں پاکستان آکر ہڑپہ اور موئن جو دڑو جیسی تہذیبوں پر کام کیا۔

وہ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ قدیم زبانیں عبرانی اور سنسکرت بھی جانتے تھے جس سے انھوں نے اپنے تحقیقی کام میں بہت مدد لی اور قدیم تاریخ اور مخطوطات کو سمجھا۔

ابو الجلال ندوی 1894ء میں اعظم گڑھ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے اور اپنے والد سے حاصل کی، اور پھر دار العلوم ندوۃُ العلما لکھنؤ میں داخل ہوگئے۔ فراغت کے بعد شبلی نیشنل کالج میں مدرس ہوئے۔ 1923ء میں سید سلیمان ندوی نے انھیں دارُ المصنّفین میں کام کرنے کا موقع دیا۔

1927ء میں ابو الجلال ندوی نے سید سلطان بہمنی اور نذیر احمد شاکر کے ساتھ مل کر مدراس سے روزنامہ مسلمان جاری کیا جو اب بھی جاری ہے اور تمل ناڈو کا واحد اردو اخبار ہے جس نے کتابت کے فن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

لسانیات اور دوسرے تحقیقی موضوعات پر ان کے مضامین معارف اور دیگر جرائد میں شائع ہوئے اور علمی و ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ لسانیات، علم الاشتقاق اور تقابلِ ادیان ان کا خاص موضوع تھا۔

وادیٔ سندھ خصوصاً موئن جو دڑو سے برآمد ہونے والی قدیم مہروں کی تشریح و توضیح کے علاوہ قدیم رسم الخط پر ان کے متعدد مقالات بھی شائع ہوئے جو ایک اہم کام تھا۔

ابو الجلال ندوی کراچی میں ملیر، سعود آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Comments

Read Entire Article