لہو لہو کشمیر میں خوش آمدید: سفارت کاروں کے دورے کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بینرز آویزاں

2 weeks ago 16

اسلام آباد: پارلیمنٹری کمیٹی کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سفارت کاروں کے اسکرپٹڈ دورے کے پیش نظر کشمیریوں نے بینرز آویزاں کیے ہیں جن پر درج ہے لہو لہو کشمیر میں خوش آمدید۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹری کمیٹی کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سفارت کاروں کے اسکرپٹڈ دورے کے پیش نظر سفارت کاروں کی گزر گاہوں سے فوجی بنکر ہٹائے گئے ہیں۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ بنکر ہٹانے کا مقصد سفارت کاروں کے سامنے امن کا جعلی عکس پیش کرنا ہے۔ بھارت جان لے سچ چھپانے سے نہیں چھپتا، بار بار جھوٹ بولنے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔

Ahead of a ‘staged’ diplomats’ tour to Indian Illegally Occupied Jammu & #Kashmir, Indian occupation authorities hv removed military bunkers from roads where the diplomats are scheduled to travel through, to give a semblance of normalcy to the envoys. But truth will speak itself pic.twitter.com/i5oUfThd6U

— Shehryar Afridi (@ShehryarAfridi1) February 17, 2021

یورپی یونین کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زخمی کشمیر میں آپ کو خوش آمدید، بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں کشمیریوں نے سفارت کاروں کے اسٹیجڈ دورے پر بطور احتجاج کاروبار زندگی بند کردیا ہے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیریوں نے بینرز بھی آویزاں کیے ہیں، انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ تصاویر بھی ٹویٹ کیں۔

Dear European Union Members You are welcome to bleeding Kashmir. Kashmiris in Indian Occupied Kashmir raise banners and observe a shutdown to protest the ‘staged’ visit of foreign envoys to illegally Occupied Jammu and Kashmir pic.twitter.com/NUqyqMbavJ

— Shehryar Afridi (@ShehryarAfridi1) February 17, 2021

یاد رہے کہ اس سے قبل وزارت خارجہ نے سفارت کاروں کو مقبوضہ کشمیر کا ایک اور دورہ کروانے کی منصوبہ بندی کو گمراہ کن قرار ‏دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ ایسے دورے عالمی برادری کی توجہ انسانی حقوق کی پامالی ‏سے ہٹانے کے لیے ہے، صورتحال معمول پر ہونے کا جھوٹا تاثر دینے کی کوشش ہے۔

Comments

Read Entire Article