سینیٹ کمیٹی کی پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران گرفتار افراد کی فوری رہائی کی ہدایت

1 week ago 16

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران گرفتار افراد کی فوری رہائی کی ہدایت کردی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا- جس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمینہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری داخلہ سندھ، اسپیشل سیکرٹری داخلہ پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد نے شرکت کی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر شیلنگ اور پی ٹی آئی قیادت پر پولیس کا کریک ڈاؤن اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی میں یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔

سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔

سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو ہراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

Read Entire Article