جامعہ کراچی کے طلباء کیلئے خوشخبری

3 days ago 8

کراچی: سیکورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد جامعہ کراچی میں 16 مئی سے کینٹینز کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں گزشتہ دنوں چینی اساتذہ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد انتظامیہ نے سیکورٹی کے پیش نظر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے محض ڈیٹا جمع کرنے کے نام پر کئی درجن کینٹینز و فوڈ اسٹالز بند کردیے تھے، اس بندش سے جامعہ کراچی کے 44 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اور طلبہ کی جانب سے اس پر شدید احتجاج بھی کیا گیا، جس کے بعد اب یونیورسٹی انتظامیہ نے کینٹینز کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

رجسٹرار جامعہ کراچی کا جاری بیان میں کہنا تھا کہ سیکورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد جامعہ کراچی میں 16 مئی سے کینٹینز کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم تمام کینٹینز سے صرف ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ محدود وسائل کے باوجود طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کررہی ہے، طلبا کو بلامعاوضہ جامعہ کے داخلی دروازوں سے متعلقہ شعبہ جات پہنچایا جارہا ہے، یونیورسٹی میں بسوں کے ذریعے طلبا وطالبات کو سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

رجسٹرار نے بتایا کہ طلبہ کو اسٹوڈنٹس کارڈ اور ملازمین کو ایمپلائز کارڈ کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، تمام طلبہ اور ملازمین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سیکیورٹی عملے سے تعاون یقینی بنائیں۔

خیال رہے کہ جامعہ کراچی میں گزشتہ دنوں چینی اساتذہ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد انتظامیہ ناقص سیکیورٹی کی خفت مٹانے کیلئے طلبہ کو پریشان کیا جارہا ہے، سیکیورٹی کے نام پر طلبہ کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو گیٹ پر روکا جارہا ہے، جبکہ کیمپس میں ٹرانسپورٹ پر پابندی اور یونیورسٹی شٹل سروس بھی انتہائی محدود کردی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ و طالبات شدید گرمی میں مین گیٹ سے ڈیپارٹمنٹ تک پیدل جانے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جامعہ کراچی دھماکا: خصوصی ویڈیوز اور تصاویر دیکھیں

طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ لمبی قطار لگا کر جامعہ میں داخل ہوتے ہیں تو شٹل دستیاب ہی نہیں ہوتی، اس گرمی میں ڈیپارٹمنٹس تک پیدل جانا پڑرہا ہے، جس کے باعث سخت پیاس لگتی ہے تاہم کینٹین ہی بند پڑی ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ جامعہ کراچی کو بند کردیا جاتا۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں سیکورٹی اہلکار نے موٹرسائیکل پارک کرنے کے معاملے پر طالبعلم کو زدوکوب کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد معاملہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔

Comments

Read Entire Article