تحریکِ پاکستان کے نام وَر راہ نما راجا صاحب محمود آباد کا تذکرہ

1 week ago 15

تحریکِ پاکستان کے نام ور راہ نما راجا امیر احمد خان المعروف راجا صاحب محمود آباد 1973ء میں آج ہی کے دن وفات پاگئے تھے۔

راجا صاحب کا شمار قائدِ اعظم کے رفیق اور تحریکِ‌ پاکستان کے ان عظیم راہ نماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے آزادی کے لیے عملی میدان میں نہ صرف اپنی تمام استعداد اور صلاحیتوں کو استعمال کیا بلکہ اپنی دولت بھی بے دریغ تحریکی کاموں پر خرچ کی۔

وہ 5 نومبر 1914ء کو پیدا ہوئے تھے۔ راجا صاحب کوئی عام ہندوستانی نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق یو پی کے ایک حکم ران گھرانے سے تھا۔ ان کے والد مہا راجا سر محمد علی خان یو پی کی مشہور ریاست محمود آباد کے والی تھے۔ اسی گھرانے میں راجا صاحب نے آنکھ کھولی اور خاندانی ماحول پھر روپے پیسے کی فراوانی دیکھی، ان کی تعلیم و تربیت بڑے اچھے پیمانے پر ہوئی۔ انھوں نے اردو کے علاوہ انگریزی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔

23 مارچ 1931ء کو ان کے والد کی وفات کے بعد راجا امیر احمد خان محمود آباد کے والی بن گئے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے قومی مسائل کے حل کے لیے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست میں فعال حصہ لینے لگے۔

اس زمانے میں مسلم لیگ کو جب کبھی مالی امداد کی ضرورت پڑی راجا صاحب نے سب سے پہلے بڑھ کر اس ضرورت کو پورا کیا۔ انھوں نے اپنی وسیع و عریض ریاست کی ساری آمدنی مسلمانوں کے مسائل کے حل کے وقف کردی تھی۔

1947ء میں جب پاکستان بنا تو راجا صاحب پاکستان چلے آئے۔ انھیں یہاں متعدد مرتبہ وزارت اور سفارتی عہدوں کی پیشکش ہوئی لیکن راجا صاحب نے ہمیشہ اس سے گریز کیا۔ وہ ایسے پُرخلوص، درویش صفت اور جاہ و منصب سے بے نیاز انسان تھے جس کی زندگی کا واحد مقصد تحریک اور آزادی رہا۔

بعد میں راجا صاحب انگلستان چلے گئے جہاں وہ اسلامک ریسرچ سینٹر سے وابستہ تھے۔ انھوں نے لندن میں انتقال کیا اور مشہد میں سپردِ خاک کیے گئے۔

Comments

Read Entire Article