امریکا میں مسلم رہنما کی شہادت : 55 سال بعد اہم انکشاف

1 week ago 3

مسلم رہنما

نیو یارک : امریکا میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے مسلم رہنما میلکم ایکس کے قتل سے متعلق 55سال بعد نئی بحث نے جنم لے لیا۔

میلکم ایکس انسانی حقوق تحریک کی ایک مقبول ترین آواز کے طور پر جانے جاتےجاتے ہیں، ان کے قتل میں کون سی طاقت یا شخصیت ملوث تھی اس حوالے سے نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میلکم ایکس کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شہری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے میلکم ایکس کے قتل کی سازش نیویارک پولیس اور ایف بی آئی نے کی۔

میلکم ایکس کے خاندان کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب پانچ دہائیوں پہلے خفیہ پولیس سے وابستہ ایک افسر نے بعد ازمرگ خط میں انکشاف کیا کہ اس پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ میلکم ایکس کی حفاظت پر مامور افراد کو جرم کے لیے آمادہ کریں۔

واضح رہے کہ19 مئی 1925ء کو امریکی ریاست نبراسکا میں پیدا ہونے والے میلکم ایکس21 فروری 1965ء کو نیو یارک میں ایک قاتلانہ حملے میں شہید کردیے گئے تھے۔

وہ مسلم مسجد اور آرگنائزیشن آف ایفرو امریکن کمیونٹی کے بانی بھی تھے، انہوں نے امریکا میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کا علم بلند کیا اور دنیا بھر میں سیاہ فاموں کے مشہور ترین رہنما بن کر ابھرے۔

21فروری 1965ء کو نیویارک میں ایک تقریب کے دوران اگلی قطار میں موجود 3 نامعلوم ملزمان نے پستول اور  شاٹ گن سے ان پر اندھا دھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

Comments

Read Entire Article